ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سابق مرکزی وزیر سکھرام کی گھر واپسی، کانگریس میں ہوئے شامل

سابق مرکزی وزیر سکھرام کی گھر واپسی، کانگریس میں ہوئے شامل

Mon, 25 Mar 2019 23:43:20    S.O. News Service

نئی دہلی،25 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق مرکزی وزیر سکھرام پیر کو اپنے پوتے کے ساتھ کانگریس میں دوبارہ شامل ہو گئے۔کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد دونوں رکنیت حاصل کی۔سکھرام کو پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس کے اہم ترجمان رندیپ سرجیوالا نے بتایاکہ کانگریس ملک کے 20 فیصد غریب کے لئے انصاف کرے گی۔ہم سب کے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ شمالی ہندوستان کے قدآور لیڈر پنڈت سکھرام جی اور ان کے پوتے کانگریس میں دوبارہ شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کو یقین ہے کہ سکھرام اور آشریہ شرما کے کانگریس میں آنے سے پارٹی کو ہماچل پردیش اور شمالی ہندوستان میں تقویت ملے گی۔ سرجیوالا نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ طاقتیں حکمراں ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی میں باپ کے بربار لیڈر لال کرشن اڈوانی کو درکنار کر دیا اور سیاست سے زبردستی ریٹائر کر دیا۔دوسری طرف کانگریس پارٹی ہے جو پنڈت سکھرام جیسے بزرگوں کا نیک خواہشات لے کر ملک کو نئی سمت دینا چاہتی ہے۔اس موقع پر سکھرام نے کہاکہ میں راہل جی سے ملا تو ان کی ایک بات سے متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ آپ سے صرف سیاسی نہیں بلکہ خاندانی رشتہ بھی ہے۔اس کے بعد میری گھرواپسي ہوئی۔میں اپنے گھر واپس آیا ہوں۔انہوں نے کہاکہ میں زندگی کے ایسے موڑ پر ہوں کہ کسی سے رنجش نہیں رکھنا چاہتا ہوں۔سابق وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ سے کچھ دوریاں ہو گئی تھیں جس کا لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔لیکن آج میں پھر واپس آیا ہوں۔اپنے پوتے کو کانگریس کے سپرد کر رہا ہوں۔لال کرشن اڈوانی کو بی جے پی سے ٹکٹ نہیں دیے جانے کے سوال پر سکھرام نے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ کانگریس میں بوڑھوں کا احترام ہے اور نوجوانوں سے بھی کام لیا جاتا ہے۔انہیں دکھ ہے کہ ایک رہنما جو بی جے پی کو اتنا آگے لے گیا انہیں ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہے۔سکھرام پہلے کانگریس کے قدآور لیڈروں میں شمار کئے جاتے تھے حالانکہ چند سال پہلے وہ بی جے پی میں چلے گئے تھے۔ان کے بیٹے انل شرما ابھی بھی ہماچل پردیش حکومت میں وزیر ہیں۔ ایسی خبریں ہیں کہ کانگریس ان کے پوتے شرما کو ہماچل کی منڈی لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ دے سکتی ہے، حالانکہ کانگریس کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


Share: